بھٹکل5؍ فروری (ایس اؤ نیوز) کنداپور کے سرکاری کالج کے پرنسپال کی جانب سے باحجاب مسلم طالبات کو ہراساں کئے جانے پر متعلقہ پرنسپال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتےہوئے مسلم اسٹوڈنٹس یونین بھٹکل نے منی ودھان سودھا کے احاطہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور اسسٹنٹ کمشنر کے توسط سے وزیر اعلیٰ سمیت دیگر ذمہ داران کو میمورنڈم پیش کیا۔
میمورنڈم میں کہاگیا ہےکہ بھارتی دستور کی دفعہ 14اور25کے تحت ہندوستان کے ہرشہری کو بنیادی حق دیا گیا ہے۔ ہر شہری کو بنیاد ی حق حاصل رہتے کنداپور سرکاری کالج کےپرنسپال نے باحجاب طالبات کو کالج میں داخل ہونے سے روکنا دستوری حق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دستور کی دفعہ 25کی روشنی میں عدالتِ عظمیٰ نے اپنے حکم نامے میں اقلیتوں کے مذہبی عمل کو برقرا ر رکھا ہے۔ دستور کی دفعہ 25ہندوستان کے ہرشہری کو چاہے وہ کسی بھی مذہب، طبقے یا نسل کا ہو مذہبی آزادی کا حق دیا ہے۔ ہندوستان کے لوگ ضمیر کی آزادی کے مساوی حقدار ہیں تو آزادی کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق رکھتےہیں۔ وزیرا عظم کابیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ والا نعرہ بھی لڑکیوں اور ان کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
ہندوستان ایک سکیولر ملک ہےجہاں سبھی دھرموں اور تہذیبوں کے لوگ مل جل کررہتےہیں اور ہرایک فرد کو اپنے مذہب ، تہذیب اور روایت کے مطابق لباس پہننے کا حق حاصل ہے۔ اس ضمن میں گورنمنٹ کالج کےپرنسپال کاسلوک دستور کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتاہےاور سرکاری ادارے کے اہم عہدے پر فائزرہتےہوئے پرنسپال نے متعصبانہ رویہ برتاہے۔ ہم اس موقع پر حکومت کرناٹکا اور اس کے ذمہ داران سےمطالبہ کرتےہیں کہ کنداپور کے سرکاری کالج کے پرنسپال کے خلاف کارروائی کریں۔
بھٹکل کی اسسٹنٹ کمشنر ممتادیوی نے میمورنڈم وصول کیا۔ میمورنڈم کی نقل ریاستی وزیر داخلہ، اترکنڑا ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور ضلع ایس پی کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ اس موقع پرپولس سرکل انسپکٹردیواکرسمیت پولس عہدیدارن موجود تھے۔